Zakat on gold,silver

12 Feb 2019 Ref-No#: 1359

Meri ammi ke paas purana gold,silver hai uska zakaat abhi ka new rate see nikalenge ya phir Jo rate Mai wo bikri hoga uss rate Mai nikalenge……

Answer

Wa’alaykum as Salam wa rahmatullahi wa barakatuhu,

If the weight of your mothers gold and silver reaches the Nisaab amount (gold: 87.48 g / silver: 612.35 g), or, if when adding this gold and silver to her other assets (cash, stock in trade etc), she has more than the Nisaab, then she will have to give Zakah on this gold.

Zakah is payable on the present day market value  of gold. Even if the gold was bought many years back, the present value (new rate) on the Zakah date will be considered.

References

والواجب فيهما أيضاً لا يختلف، لأن نصاب الدرهم مائتان على كل حال، ونصاب الذهب عشرون مثقالاً على كل حال (المحيط البرهاني – 2/ 246)

نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم(الدر المختار – ص: 132)

زیورات کی زکوٰۃ میں فروختگی کی قیمت کا اعتبار ہے

لجواب باللّٰہ التوفیق: آج کل عرف یہ ہے کہ سنار جب زیور بیچتا ہے تو سونے چاندی کے وزن کے ساتھ ساتھ اس کی بنائی کی قیمت بھی جوڑتا ہے؛ لیکن جب عام آدمی اپنا زیور سنار کے پاس بیچنے کے لئے جاتا ہے تو ایسی صورت میں سنار بنائی کی قیمت نہیں جوڑتا، اور وزن میں بھی کم قیمت پر خریدتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر زیور کے بیچنے کی قیمت ۲۷؍سو روپیہ فی گرام چل رہی ہے، تو واپسی کے وقت ۲۵؍سو روپیہ فی گرام ہوجاتی ہے، اور یہ عرف آج کل تقریباً پوری دنیا میں بلا نکیر جاری ہے؛ لہٰذا مسئولہ صورت میں اگر کوئی شخص قیمت لگاکر اپنے زیورات کی زکوٰۃ ادا کرنا چاہتا ہے، تو وہ زیور سنار کے یہاں جتنے میں فروخت ہوگا، پس اسی مقدار پر زکوٰۃ کی ادائیگی فرض ہوگی، کیوںکہ عرفا اس کی یہی قیمت ہے  (کتاب النوازل:555/6)