McDonalds

05 Nov 2018 Ref-No#: 1161

Asalamualaikum

The only product I’m interested in buying from McDonalds is the Mocha Iced Frappe.

It turns out it is actually suitable for vegetarians, so afterwards I wondered about it’s alcohol content.

This is what McDonalds had to say: “Alcohol is used during the manufacturing process of our Caramel Iced Frappe, Chocolate Chip Iced Frappe and whipped cream ingredients. The level of alcohol is very low and evaporates during the process. The alcohol level in the final Caramel Iced Frappe, Chocolate Chip Iced Frappe and whipped cream is less than 0.05%.”

I read a fatwa by Shaykh Uthaymeen which mentioned: “But if the alcohol has been fully absorbed into what it has been mixed with, and no trace of it can be detected, then it does not become haraam thereby.”

It would seem like since the alcohol content in the drink is so little and it also evaporates, then it must be permissible to purchase.

Am I safe to say this is correct?

Answer

Wa’alaykum as Salam wa rahmatullahi wa barakatuhu,

The miniscule alcohol in food products will be permissible on two conditons:

1) The alcohol should not be derived from dates or grapes,

2) The residual little should not intoxicate.

This is irrespective whether the alcohol is used as a preservative, solvent or ingredient.

If alcohol is derived from grapes or dates, or if the alcohol intoxicates, the product in which the alcohol is used will not be permissible.

References

ذكر محمد رحمه الله فى” الجامع الصغير” عقيب ذكر الخمر و نقيع الزبيب والسكر، و ما سواها من الأشربة، فلا بأس به، وهذا الجواب على هذا البيان، والعموم لا يوجد في غير هذا الكتاب، وهذا نص أن ما يتخذ من الحنطة والشعير حلال (المحيط البرهاني – ١٩ / ١٢٣)

ونبيذ العسل والتين ونبيذ الحنطة والذرة والشعير حلال وإن لم يطبخ، وهذا عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى إذا كان من غير لهو (الهداية – ٧ / ٢٩٦)  

الکحل والے مشروبات وماکولات کا حکم

سوال: ہمارے ملک میں کوکا کولا، فانتا اور ان کے مانند دیگر مشروبات  شائع ع ذائع ہیں اور کثرت سے مستعمل  ہیں،بنانے والے کار خانہ سے تحقیق سے معلوم ہوا کہ ان مشروبات وغیرھا میں الکحل ڈال جاتا ہے، اس الکحل کے بعض اقسام عصیرالعنب سے تیار ہوتے ہیں اور بعض اقسام آلو،کوئلہ اور گیہوں وغیرہ سے بنتے ہیں، ایک بوتل میں تقریبا ایک آدھ قطرہ ا لکحل موجود ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس قسم کی مشروبات محض تنعم و تلذذ کے طور پر پی جاتی ہیں-۔۔۔ نیز آج کل دواؤں میں الکحل ڈالا جاتا ہے، خصوصا  ہومیوپیثھک کی کوئی دوا ہی شاید اس سے خالی ہو، ان دواؤں کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟

الجواب: تحقیق سے ثابت ہوا کہ اشربہ وادویہ میں عصیر العنب یا عصیر الرطب نہیں ڈالا جاتا، دوسرے اشربہ کہ حکم کی تفصیل یہ ہے

قال العلامة الشلبي (قوله فيما اذا قصد به التقوي) علي طاعة الله او استمراء الطعام او التداوي فاما المسكر منه حرام بالاجماع اه اتقاني(حاشية علي التبيين ص٤٧ ج ٦)

وقال العلامة ابن عابدين: (قوله بلا لهو وطرب) قال في المختار: الطرب خفة تصيب الإنسان لشدة حزن أو سرور اهـ. قال في الدرر. وهذا التقييد غير مختص بهذه الأشربة بل إذا شرب الماء وغيره من المباحات بلهو وطرب على هيئة الفسقة حرام اهـ ط (رد المحتار ص٢٩١ ج ٥)

وقال العلامة الحصكفي: (و) الرابع (المثلث) العنبي وإن اشتد، وهو ما طبخ من ماء العنب حتى يذهب ثلثاه ويبقى ثلثه إذا قصد به استمراء الطعام والتداوي والتقوي على طاعة الله تعالى، ولو للهو لا يحل إجماعا حقائق (رد المحتار ص٢٩٢ ج ٥)

وقال في الهندية: ( وَأَمَّا مَا هُوَ حَلَالٌ عِنْدَ عَامَّةِ الْعُلَمَاءِ ) فَهُوَ الطِّلَاءُ ، وَهُوَ الْمُثَلَّثُ وَنَبِيذُ التَّمْرِ وَالزَّبِيبُ فَهُوَ حَلَالٌ شُرْبُهُ مَا دُونَ السَّكَرِ لِاسْتِمْرَاءِ الطَّعَامِ وَالتَّدَاوِي وَلِلتَّقْوَى عَلَى طَاعَةِ اللَّهِ – تَعَالَى – لَا لِلتَّلَهِّي وَالْمُسْكِرُ مِنْهُ حَرَامٌ ، وَهُوَ الْقَدْرُ الَّذِي يُسْكِرُ ، وَهُوَ قَوْلُ الْعَامَّةِ ( عالمگیریه ص٤١٢ ج ٥)

وقال العلامة اللكهنوي: قلت اللهو و الطرب نوعان منهما مباح اذا كان خاليا عن معني المعصية ومقدماتها ونوع منها مكروهة اذا خلط بالمعصية او مقدماتها او تكون وسيلة اليها وهذا هو المراد بقوله اللهو والطرب دون الاول(عمدة الرعاية حاشية شرح الوقاية ص ٦٦ ج ٤)

عبارات بالا سے امور ذیل ثابت ہوئے:

ـ غیر خمر کا استعمال حد سکر سے کم تقوی واستمراء طعام کے لئے جائز ہے،زمان حاضر میں معدہ کی خرابی اور سوء ہضم کا مرض عام ہے،اس لئے مصلح معدہ و ہاضم اشیاء لوازم طعام میں داخل ہو گئی ہیں

۔نشاط وطرب کے لئے اکل و شراب مطلقا ممنوع نہیں بلکہ علی  طریق الفساق ممانعت ہے اور اس میں کسی خاص ماکول و مشروب کی تخصیص نہیں،بلکہ سب ماکولات و مشروبات کا یہی حکم ہے

-۔ہر لہو وطرب حرام نہیں، بلکہ اس میں کسی حرام فعل کا ارتکاب ہو یا مفضی الی الحرام ہو تو نا جائز ہے

-نمبر ٢ اور نمبر ٣ کا حاصل تقریبا ایک ہی ہے-

اس تفصیل سے ثابت ہوا کہ سوال میں مذ کورہ اشیاء کا کھانا پینا حلال ہے-

علاوہ ازین  عموما ایسے ماکولات و مشروبات میں الکحل تعفن سے حفاظت کی غرض سے ڈالا  جاتا ہے اس لئے استعمال بوجہ ضرورت میں داخل ہے، تلہی میں نہیں (احسن الفتاوى – ٨ /   ٤٨٦) 

الکحول کا شرعی حکم

سوال: الکحول  کا کیا  حکم ہے؟— آج کل اس میں ابتلائے عام ہے لہذا تفصیلی جواب  مرحمت فرمائے؟

الجواب: جو الکحول یا اسپرٹ،منقی،انگور،یا کجھور کی شراب سے بنایا گیا ہو وہ بالاتفاق سے ناپاک ہے، اس کا استعمال اور خریدو فروخت بھی نا جائز ہے

وہ الکحول یا اسپرت جو مذکورہ بالا اشیاٰء کے علاوہ کسی اور چیز مثلا جو،آلو،شہد وغیرہ کی شراب سے بنایا گیا ہو اس کی نجاست اور حرمت میں فقہاء کا اختلاف ہے امام صاحب اور امام ابو یوسف کے نزدیک اس کی اتنی مقدار حلال ہے جس سے نشہ نہ ہو-جب کہ اس کو صحیح مقصد کے لئے استعمال کیا جائے، طرب اور لہو کے طور پر نہ ہو-اور امام محمد کے نذدیک تھوڑی  مقدار بھی نا جائز ہے،عام حالت میں فتوی امام محمد کے قول پر ہے مگر اسپرٹ میں عموم بلوی کی وجہ سے شیخین کے قول کے مطابق  گنجائش ہے    (فتاوی دار العلوم زکریا – ٦ / ٦٧٧)  

Tags: